Over 150 Arrested in London at Pro–Palestine Protest
لندن میں "Palestine Action" کی حمایت میں بڑا احتجاج: 150 گرفتار
برطانوی حکومت کی پالیسی پر عوامی ردعمل
لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں ہفتہ کے روز ایک بڑا اور پُرجوش احتجاج اس وقت منظر عام پر آیا جب سینکڑوں مظاہرین نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کی، جس کے تحت فلسطین حامی گروپ Palestine Action کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اس موقع پر پولیس نے کم از کم 150 مظاہرین کو حراست میں لے لیا، جن میں متعدد ایسے افراد بھی شامل تھے جو فلسطینی پرچم اور اسکارف پہنے ہوئے تھے۔مظاہرین نے "نسل کشی بند کرو"، "آزادیِ فلسطین" اور "Palestine Action کو آزادی دو" جیسے نعرے لگائے۔ ان کا موقف تھا کہ برطانوی حکومت آزادیٔ اظہار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کو جرم بنا رہی ہے۔
احتجاج کا پس منظر
Palestine Action ایک برطانوی کارکن تنظیم ہے جو اسرائیلی اسلحہ کمپنیوں اور ان سے وابستہ کاروباروں کے خلاف براہِ راست ایکشن لینے کے لیے مشہور ہے۔ ان کے کارکن اکثر فیکٹریوں، دفاتر اور گوداموں میں گھس کر احتجاج کرتے ہیں، دیواروں پر سرخ پینٹ پھینکتے ہیں اور بعض اوقات ان اداروں کے کام کو وقتی طور پر معطل کر دیتے ہیں۔برطانوی حکومت نے حال ہی میں اس تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا ہے، جس کے بعد اس کی رکنیت اختیار کرنا، حمایت کرنا یا اس کے لیے فنڈ جمع کرنا غیر قانونی ہو گیا ہے۔
پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے
عینی شاہدین کے مطابق پارلیمنٹ اسکوائر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد پر "امن عامہ میں خلل ڈالنے" اور "غیر قانونی اجتماع" میں شریک ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق
"ہم آزادیٔ اظہار کا احترام کرتے ہیں لیکن قانون شکنی برداشت نہیں کریں گے۔ کسی کو بھی تشدد یا غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"
مظاہرین کا مؤقف
مظاہرین کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو خاموش کرایا جا رہا ہے۔ ایک خاتون مظاہرہ کار نے کہا: "ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر دنیا کی توجہ دلائیں۔ اگر یہ جرم ہے، تو ہم سب مجرم ہیں۔"
ایک اور مظاہرہ کار نے کہا کہ Palestine Action کی مہم پر پابندی لگانا دراصل اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت اور برطانیہ کی منافقانہ خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے۔
برطانوی حکومت کا دفاع
برطانوی وزیرداخلہ نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ Palestine Action کے اقدامات "انتہائی خطرناک اور غیر قانونی" ہیں۔ ان کے مطابق: "ہم پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتے ہیں، لیکن کسی کو بھی قانون توڑنے یا عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔"
وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ اس گروپ کی سرگرمیوں نے کئی کاروباروں اور عام شہریوں کو نقصان پہنچایا، اس لیے یہ پابندی ضروری تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور برطانیہ کی کئی سول سوسائٹی تنظیموں نے اس پابندی کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک نمائندے نے کہا:
> "اگر کسی تنظیم کے اقدامات پر اعتراض ہے، تو اس کا حل مکالمہ اور قانونی کارروائی ہے، نہ کہ مکمل پابندی۔"
سوشل میڈیا پر مہم
پابندی کے اعلان اور احتجاج کے بعد سوشل میڈیا پر #FreePalestineAction, #StandWithPalestine اور #FreedomOfSpeech جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ہزاروں صارفین نے گرفتار ہونے والے مظاہرین کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے فنڈ ریزنگ مہمات شروع کر دی ہیں تاکہ قانونی مدد فراہم کی جا سکے۔
عالمی تناظر
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں، خاص طور پر غزہ میں جاری انسانی بحران کے بعد۔ برطانیہ میں فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والے گروپوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن ساتھ ہی اسرائیل کی حمایت کرنے والے حلقے بھی مضبوط ہیں، جس کی وجہ سے معاشرہ مزید تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ Palestine Action پر پابندی لگانے سے برطانیہ میں آزادیٔ اظہار اور احتجاج کے حق پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر جان ہاورڈ کے مطابق
> "یہ پابندی ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہے۔ آج یہ اقدا فلسطین حامیوں کے خلاف ہے، کل کو یہ کسی اور سیاسی گروپ پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔"
نتیجہ
لندن میں ہونے والا یہ احتجاج اور اس پر پولیس کی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا نہیں بلکہ ایک عالمی
مسئلہ بن چکا ہے۔ برطانیہ میں اس حوالے سے جاری کشمکش شاید آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرے۔
Stay Informed
Follow TheAzwai for real-time updates on technology, science, and space developments — in both Urdu and English.
Source: SUPARCO, Ministry of Science & Technology
🔗 Read more at:
https://azwaiofficial.blogspot.com

FreePalestine
ReplyDelete